کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کا — خواجہ حیدر علی آتش
“No one inquired the price of this shattered heart of mine— who would ever buy a broken cup, and what would they do with it?”
معنی
کسی نے ٹوٹے ہوئے دل کی قیمت تک نہ پوچھی؛ بھلا کوئی ٹوٹا ہوا پیالہ خرید کر کیا کرتا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے ٹوٹے دل کو بازار میں پڑے ایک ٹوٹے پیالے سے تشبیہ دیتا ہے — جیسے کوئی پھوٹے برتن کی قیمت نہیں پوچھتا، ویسے ہی اُس کے زخمی دل کی کسی نے قدر نہ کی۔ گہرائی یہ ہے کہ دنیا صرف سلامت اور کارآمد چیزوں سے محبت کرتی ہے، اور جو انسان ٹوٹ چکا ہو اُسے بیکار سمجھ کر چھوڑ دیتی ہے۔ اس میں ایک خاموش درد ہے — بے قدری اور تنہائی کا وہ احساس جو ہر شکستہ دل کبھی نہ کبھی محسوس کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
