غزل
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
اس غزل میں محبوب کی عظمت اور عشق کی بالادستی کا پُروقار بیان ملتا ہے، جہاں راہگزر کی خاک بھی شاہی کروفر کی پامالی پر نازاں ہے۔ شاعر نے دنیاوی شوکت و حشمت کے مقابلے میں حسن و عشق کے جلووں کے غیر معمولی وقار کو خوبصورتی سے سراہا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
रौंदी हुई है कौकबा-ए-शहरयार की
इतराए क्यूँ न ख़ाक सर-ए-रहगुज़ार की
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
اترائے کیوں نہ خاک سر رہ گزار کی
راستے کی خاک بادشاہ کے شاہی جلوس کے قدموں تلے روندی گئی ہے، تو پھر وہ اس بات پر فخر سے کیوں نہ اترائے؟
2
जब उस के देखने के लिए आएँ बादशाह
लोगों में क्यूँ नुमूद न हो लाला-ज़ार की
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
جب محبوب کو دیکھنے کے لیے خود بادشاہ آ رہے ہوں، تو اسے دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کے مجمع میں لالہ کے باغ جیسی رونق کیوں نہ ظاہر ہو۔
3
भूके नहीं हैं सैर-ए-गुलिस्ताँ के हम वले
क्यूँकर न खाइए कि हवा है बहार की
بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے
کیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
ہم باغ کی سیر کے بھوکے تو نہیں ہیں، مگر پھر بھی اس ہوا کا لطف کیوں نہ اٹھائیں (ہوا کیوں نہ کھائیں) جبکہ یہ بہار کی ہوا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
