بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے — مرزا غالب
“We are not starved to wander through the garden, yet / Why not feast on this breeze, when it is the breath of spring?”
معنی
ہم باغ کی سیر کے بھوکے تو نہیں ہیں، مگر پھر بھی اس ہوا کا لطف کیوں نہ اٹھائیں (ہوا کیوں نہ کھائیں) جبکہ یہ بہار کی ہوا ہے۔
تشریح
یہاں شاعر نے روزمرہ کے محاورے ’ہوا کھانا‘ یعنی سیر و تفریح کرنے کو بڑے شوخ اور دلکش انداز میں برتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یوں تو ہمیں باغ کی سیر کی کوئی طلب یا بھوک نہیں، مگر جب ہوا ہی اتنی پیاری اور بہار کی ہو تو بھلا کوئی اس سے دامن کیسے بچا سکتا ہے؟ یہ شعر انسان کو سکھاتا ہے کہ جب قدرت اپنے حسن اور مسرتوں کا خوان سجائے، تو بنا کسی تکلف کے دل کھول کر اس لمحے کا لطف اٹھانا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
