روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی — مرزا غالب
“Trampled beneath the pomp of the monarch's grand cavalcade, / Why should the dust of the thoroughfare not swell with pride?”
معنی
راستے کی خاک بادشاہ کے شاہی جلوس کے قدموں تلے روندی گئی ہے، تو پھر وہ اس بات پر فخر سے کیوں نہ اترائے؟
تشریح
اس شعر میں راستے کی ادنیٰ خاک کے فخر اور ناز کا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے، جسے بادشاہ کی شاندار سواری نے اپنے قدموں تلے روندا ہے۔ شاعر کمال سادگی سے سمجھاتے ہیں کہ جب کچلنے والا کوئی عظیم الشان وجود ہو، تو پامال ہونا بھی ذلت کے بجائے باعثِ اعزاز بن جاتا ہے۔ عشق کی دنیا میں یہ عاشق کے اس جذبے کی عکاسی ہے جہاں محبوب کے ہاتھوں ملنے والی تکلیف بھی باعثِ افتخار سمجھی جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
