غزل
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
یہ غزل محبت کی متضاد نوعیت کو بیان کرتی ہے، جہاں عاشق محبوب کے مزاج سے پہنچنے والے درد میں بھی سکون پاتا ہے۔ یہ ہجر کی لامتناہی اذیت، محبوب کے خواب میں آنے کے وعدے پر عمر بھر جاگنے کی کیفیت، اور محبوب کے متوقع جوابات کے تئیں ایک تلخ و شیریں قناعت کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر مسلسل تکالیف کے باوجود گہری اور پائیدار محبت کا اظہار کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मिलती है ख़ू-ए-यार से नार इल्तिहाब में
काफ़िर हूँ गर न मिलती हो राहत अज़ाब में
آگ اپنی تپش میں محبوب کے مزاج سے اپنی فطرت پاتی ہے۔ میں کافر ٹھہروں گا اگر مجھے عذاب میں بھی راحت نہ ملتی ہو۔
2
कब से हूँ क्या बताऊँ जहान-ए-ख़राब में
शब-हा-ए-हिज्र को भी रखूँ गर हिसाब में
یہ بتانا مشکل ہے کہ میں اس ویران دنیا میں کب سے ہوں، خاص طور پر اگر ہجر کی راتوں کو بھی حساب میں رکھا جائے۔
3
ता फिर न इंतिज़ार में नींद आए उम्र भर
आने का अहद कर गए आए जो ख़्वाब में
میرے خواب میں آنے والوں نے آنے کا وعدہ کیا، تاکہ میں پھر کبھی عمر بھر انتظار میں سو نہ سکوں۔
4
क़ासिद के आते आते ख़त इक और लिख रखूँ
मैं जानता हूँ जो वो लिखेंगे जवाब में
میں قاصد کے واپس آنے سے پہلے ہی ایک اور خط لکھ لیتا ہوں، کیونکہ مجھے پہلے سے ہی پتہ ہے کہ وہ جواب میں کیا لکھیں گے۔
5
मुझ तक कब उन की बज़्म में आता था दौर-ए-जाम
साक़ी ने कुछ मिला न दिया हो शराब में
ان کی محفل میں شراب کا دور مجھ تک بھلا کب آتا تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ساقی نے شراب میں کچھ ملا دیا ہو؟
6
जो मुनकिर-ए-वफ़ा हो फ़रेब उस पे क्या चले
क्यूँ बद-गुमाँ हूँ दोस्त से दुश्मन के बाब में
جو وفا کو نہیں مانتا، اس پر کیا فریب کام کرے گا؟ دشمن کے معاملے میں میں اپنے دوست پر کیوں بدگمان ہوں؟
7
मैं मुज़्तरिब हूँ वस्ल में ख़ौफ़-ए-रक़ीब से
डाला है तुम को वहम ने किस पेच-ओ-ताब में
میں وصل میں بھی رقیب کے خوف سے بے چین ہوں۔ اس وہم نے تمہیں کس بڑی پریشانی میں ڈال دیا ہے؟
8
मैं और हज़्ज़-ए-वस्ल ख़ुदा-साज़ बात है
जाँ नज़्र देनी भूल गया इज़्तिराब में
شاعر وصل کی خوشی کو خدا کی بنائی ہوئی حیرت انگیز بات سمجھتا ہے۔ شدید اضطراب میں وہ اپنی جان نذر کرنا بھول گیا۔
9
है तेवरी चढ़ी हुई अंदर नक़ाब के
है इक शिकन पड़ी हुई तरफ़-ए-नक़ाब में
نقاب کے اندر اس کی تیوری چڑھی ہوئی ہے۔ نقاب کی طرف ایک شکن پڑی ہوئی ہے۔
10
लाखों लगाओ एक चुराना निगाह का
लाखों बनाव एक बिगड़ना इ'ताब में
ایک چرائی ہوئی نگاہ لاکھوں لگاؤ اور محبتوں پر بھاری پڑتی ہے؛ ایک ناراضگی بھرا بگڑنا لاکھوں بناوٹوں کو خراب کر دیتا ہے۔
11
वो नाला दिल में ख़स के बराबर जगह न पाए
जिस नाला से शिगाफ़ पड़े आफ़्ताब में
وہ نالہ جو سورج کو بھی چیر سکے، دل میں خس کے برابر بھی جگہ نہیں پاتا۔
12
वो सेहर मुद्दआ-तलबी में न काम आए
जिस सेहर से सफ़ीना रवाँ हो सराब में
وہ سحر بھی، جس سے سراب میں جہاز چل سکے، میرے مقصد کو حاصل کرنے میں کوئی کام نہ آیا۔
13
'ग़ालिब' छुटी शराब पर अब भी कभी कभी
पीता हूँ रोज़-ए-अब्र ओ शब-ए-माहताब में
غالب نے شراب چھوڑ دی ہے، مگر اب بھی کبھی کبھی میں بادلوں والے دنوں اور چاندنی راتوں میں پیتا ہوں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
