ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا

“Upon a single arrow pierced, together now both lie; gone are the days when my heart and liver lived their separate sigh.”

— مرزا غالب
معنی

اب ایک ہی تیر میں میرا دل اور جگر دونوں چھدے ہوئے ہیں؛ وہ دن گزر گئے جب دل اور جگر ایک دوسرے سے الگ ہوا کرتے تھے۔

تشریح

اردو شاعری میں دل کو تمناؤں کا مسکن اور جگر کو دکھ درد جھیلنے کا حوصلہ سمجھا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ دن گزر گئے جب دل کا اضطراب اور جگر کی برداشت جدا جدا تھے؛ اب تو عشق کا تیر اس گہرائی تک پیوست ہوا ہے کہ دونوں کو ایک ساتھ پرو دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غم اب ٹکڑوں میں نہیں رہا، بلکہ جان لیوا درد نے پورے وجود کو ایک مسلسل اور ناقابلِ تقسیم زخم بنا دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.