غزل

میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں

میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
مرزا غالب· Ghazal· 3 shers· radif: था

مرزا غالب کی یہ شاہکار غزل شوخی، ظرافت اور دلی کیفیات کے گہرے درد کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں ساقی اور مے خانے کی علامتوں کے ذریعے تشنہ لبی، مقدر کی ستم ظریفی اور عشق کے جان لیوا کرب کو فکری و فلسفیانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मैं और बज़्म-ए-मय से यूँ तिश्ना-काम आऊँ गर मैं ने की थी तौबा साक़ी को क्या हुआ था
میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
کیا یہ ممکن ہے کہ میں شراب کی محفل سے پیاسا لوٹ آؤں؟ اگر میں نے توبہ کر بھی لی تھی، تو ساقی کو کیا ہوا تھا کہ اس نے مجھے زبردستی پلا نہ دی؟
2
है एक तीर जिस में दोनों छिदे पड़े हैं वो दिन गए कि अपना दिल से जिगर जुदा था
ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
اب ایک ہی تیر میں میرا دل اور جگر دونوں چھدے ہوئے ہیں؛ وہ دن گزر گئے جب دل اور جگر ایک دوسرے سے الگ ہوا کرتے تھے۔
3
दरमांदगी में 'ग़ालिब' कुछ बन पड़े तो जानूँ जब रिश्ता बे-गिरह था नाख़ुन गिरह-कुशा था
درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
اے غالب، لاچاری اور بے بسی کی حالت میں اگر تم کچھ کر دکھاؤ تو میں مانوں؛ ورنہ جب دھاگے میں کوئی گرہ ہی نہیں تھی، تب تو تمہارا ناخن گرہیں کھولنے کا دعویٰ کرتا تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.