میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا

“That I should leave the gathering of wine still parched and dry? / Even if I had vowed to abstain, what had possessed the cupbearer?”

— مرزا غالب
معنی

کیا یہ ممکن ہے کہ میں شراب کی محفل سے پیاسا لوٹ آؤں؟ اگر میں نے توبہ کر بھی لی تھی، تو ساقی کو کیا ہوا تھا کہ اس نے مجھے زبردستی پلا نہ دی؟

تشریح

غالب کا یہ انداز کتنا شوخ اور دلکش ہے، جہاں وہ مے خانے سے پیاسے لوٹنے کی شکایت کچھ اس طرح کرتے ہیں جیسے سارا قصور ساقی کا ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر لمحاتی کمزوری میں آ کر میں نے توبہ کر بھی لی تھی، تو ساقی کا تو کام ہی کرم فرمانا اور توبہ توڑنا تھا، وہ بھلا کیوں باز رہا؟ اس بظاہر شرارت آمیز بہانے کے پیچھے یہ فلسفہ چھپا ہے کہ عشق اور فیضِ الٰہی کو اتنا بے پایاں ہونا چاہیے کہ وہ انسان کے ادھورے ارادوں اور کمزور پرہیزگاری پر بھی غالب آ جائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.