غزل

لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے

لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
مرزا غالب· Ghazal· 4 shers· radif: मुझे

یہ غزل محبوب کے لیے عاشق کی بے پناہ آرزو اور انتہائی کمزوری کو عیاں کرتی ہے۔ عاشق اپنے محبوب کی ذرا سی توجہ کا بھی مشتاق ہے، خواہ وہ ایک رحم بھری نگاہ ہو یا پردے کے پیچھے سے غصے بھری نظر۔ وہ قربت کی شدید خواہش کا اظہار کرتے ہیں، یہاں تک کہ ایک زلف بن کر محبوب کی کنگھی میں الجھنے کی تمنا کرتے ہیں، جو ان کی مکمل تابعداری اور محبوب کی دلکش طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
लाग़र इतना हूँ कि गर तू बज़्म में जा दे मुझे मेरा ज़िम्मा देख कर गर कोई बतला दे मुझे
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
میں اتنا لاغر ہوں کہ اگر تم مجھے بزم میں جانے دو، تو یہ حیرت انگیز ہوگا کہ میرا ذمہ لے کر بھی کوئی مجھے پہچان کر بتا سکے۔
2
क्या तअ'ज्जुब है जो उस को देख कर आ जाए रहम वाँ तलक कोई किसी हीले से पहुँचा दे मुझे
کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم واں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
اگر وہ مجھے دیکھے تو اسے مجھ پر رحم آ جائے، اس میں کوئی تعجب نہیں۔ کاش، کوئی مجھے کسی حیلے بہانے سے اس تک پہنچا دے۔
3
मुँह न दिखलावे न दिखला पर ब-अंदाज़-ए-इताब खोल कर पर्दा ज़रा आँखें ही दिखला दे मुझे
منہ نہ دکھلاوے نہ دکھلا پر بہ انداز عتاب کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
اگر تم اپنا چہرہ نہیں دکھانا چاہتے تو مت دکھاؤ۔ لیکن غصے کے انداز میں ہی سہی، پردہ ہٹا کر مجھے اپنی آنکھیں ہی دکھا دو۔
4
याँ तलक मेरी गिरफ़्तारी से वो ख़ुश है कि मैं ज़ुल्फ़ गर बन जाऊँ तो शाने में उलझा दे मुझे
یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
وہ میری گرفتاری سے اِس قدر خوش ہے کہ اگر میں زلف بن جاؤں، تو وہ مجھے اپنے شانے میں اُلجھا دے گی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.