غزل

کسی کو دے کے دل کوئی نواسنجِ فغاں کیوں ہو

کسی کو دے کے دل کوئی نواسنجِ فغاں کیوں ہو
مرزا غالب· Ghazal· 11 shers· radif: हो

یہ غزل محبت کے بارے میں ایک مایوس کن اور باغیانہ نقطہ نظر کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر دل دینے کے بعد آہ و فغاں کی بے اثری پر سوال اٹھاتا ہے، ایک غیر متزلزل محبوب کے سامنے خودداری پر زور دیتا ہے اور رازدار کی بے وفائی کو مسترد کرتا ہے۔ آخر میں، یہ وفا اور عشق کے بارے میں ایک شکوک و شبہات والا خیال پیش کرتی ہے، محبوب کے اختیار کو چیلنج کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
किसी को दे के दिल कोई नवा-संज-ए-फ़ुग़ाँ क्यूँ हो न हो जब दिल ही सीने में तो फिर मुँह में ज़बाँ क्यूँ हो
کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
کسی کو اپنا دل دے کر کوئی فریاد کیوں کرے؟ جب سینے میں دل ہی نہ ہو، تو پھر منہ میں زبان کیوں ہو؟
2
वो अपनी ख़ू न छोड़ेंगे हम अपनी वज़्अ क्यूँ छोड़ें सुबुक-सर बन के क्या पूछें कि हम से सरगिराँ क्यूँ हो
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
وہ اپنی خُو نہیں چھوڑیں گے، تو ہم اپنا وقار یا طرزِ عمل کیوں ترک کریں؟ ہمیں بے وقوف بن کر یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ ہم سے کیوں خفا یا بے رُخی برت رہے ہیں۔
3
किया ग़म-ख़्वार ने रुस्वा लगे आग इस मोहब्बत को न लावे ताब जो ग़म की वो मेरा राज़-दाँ क्यूँ हो
کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
غم خوار نے مجھے رسوا کیا، اس محبت کو آگ لگ جائے۔ جو شخص غم کی تاب نہ لا سکے، وہ میرا رازداں کیوں ہو؟
4
वफ़ा कैसी कहाँ का इश्क़ जब सर फोड़ना ठहरा तो फिर ऐ संग-दिल तेरा ही संग-ए-आस्ताँ क्यूँ हो
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
جب انجام میں اپنا سر پھوڑنا ہی طے ہے تو کیسی وفا اور کیسا عشق؟ پھر، اے سنگ دل، میرا سر صرف تیرے ہی آستاں پر کیوں ٹوٹے؟
5
क़फ़स में मुझ से रूदाद-ए-चमन कहते न डर हमदम गिरी है जिस पे कल बिजली वो मेरा आशियाँ क्यूँ हो
قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
قفس میں، میرے ہمدم، مجھے چمن کا حال سنانے سے مت ڈرو۔ جس آشیانے پر کل بجلی گری تھی، وہ میرا کیوں ہو؟
6
ये कह सकते हो हम दिल में नहीं हैं पर ये बतलाओ कि जब दिल में तुम्हीं तुम हो तो आँखों से निहाँ क्यूँ हो
یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
یہ کہہ سکتے ہو کہ میں دل میں نہیں ہوں، مگر یہ بتاؤ کہ جب دل میں صرف تم ہی تم ہو تو آنکھوں سے کیوں چھپے ہوئے ہو؟
7
ग़लत है जज़्ब-ए-दिल का शिकवा देखो जुर्म किस का है न खींचो गर तुम अपने को कशाकश दरमियाँ क्यूँ हो
غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
دل کی کشش پر شکوہ کرنا غلط ہے، دیکھو قصور کس کا ہے۔ اگر تم خود کو نہیں کھینچتے، تو ہمارے درمیان کشمکش کیوں ہوگی؟
8
ये फ़ित्ना आदमी की ख़ाना-वीरानी को क्या कम है हुए तुम दोस्त जिस के दुश्मन उस का आसमाँ क्यूँ हो
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
کیا یہ فتنہ کسی انسان کے گھر کی بربادی کے لیے کافی نہیں ہے؟ جس شخص کے تم دوست بن گئے، اس کا دشمن آسمان کیوں ہو گا؟
9
यही है आज़माना तो सताना किस को कहते हैं अदू के हो लिए जब तुम तो मेरा इम्तिहाँ क्यूँ हो
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
اگر یہی آزمانا ہے تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟ جب تم دشمن کے ہو گئے ہو، تو میری آزمائش کیوں ہو؟
10
कहा तुम ने कि क्यूँ हो ग़ैर के मिलने में रुस्वाई बजा कहते हो सच कहते हो फिर कहियो कि हाँ क्यूँ हो
کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
تم نے کہا کہ دوسروں سے ملنے میں رسوائی کیوں ہوتی ہے۔ تم بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر بتانا کہ ہاں ایسا کیوں ہوتا ہے۔
11
निकाला चाहता है काम क्या ता'नों से तू 'ग़ालिब' तिरे बे-मेहर कहने से वो तुझ पर मेहरबाँ क्यूँ हो
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
غالب، تو طعنوں سے کیا کام نکالنا چاہتا ہے؟ تیرے اسے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہربان کیوں ہوگا؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.