یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں — مرزا غالب
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
“If this is testing, then what is tormenting called?When you've sided with the foe, why should I be tested?”
— مرزا غالب
معنی
اگر یہی آزمانا ہے تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟ جب تم دشمن کے ہو گئے ہو، تو میری آزمائش کیوں ہو؟
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
