مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی — مرزا غالب

مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی

“What hope can I keep of her now in this season of youth, when even in childhood she never lent an ear to my tale?”

— مرزا غالب

معنی

مجھے جوانی کے دور میں اس سے کیا امید ہو سکتی ہے، جس نے بچپن میں بھی کبھی میری کہانی نہیں سنی تھی۔

تشریح

شاعر اپنے دیرینہ عشق کی بے اعتنائی پر ایک گہری اداسی اور حسرت کے ساتھ روشنی ڈال رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب بچپن جیسے معصوم اور بے لوث زمانے میں محبوب نے اس کے دل کی بات پر کان نہ دھرے، تو اب جوانی کے دور میں جہاں غرور اور فاصلے بڑھ جاتے ہیں، اس سے کسی وفا کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ یہ شعر بچپن سے چلی آ رہی مایوسی اور وقت کے ساتھ اس کے مزید گہرے ہونے کا ایک پردرد اعتراف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.