جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی — مرزا غالب

جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی تو فسردگی نہاں ہے بہ کمین بے زبانی

“If the flame keeps no watch over the scarred heart's treasured prize, in the ambush of mute silence, cold desolation lies.”

— مرزا غالب

معنی

اگر شعلہ دل کے داغ کی دولت کی حفاظت اور نگہبانی نہ کرے، تو خاموشی کی گھات میں دل کی افسردگی اور پژمردگی چھپی بیٹھی ہے۔

تشریح

غالب اس شعر میں دل کے داغوں کو کوئی عیب نہیں بلکہ دل کا بیش قیمت سرمایہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر عشق اور احساس کا شعلہ اس درد کی پاسبانی نہ کرے، تو خاموشی کی گھات میں بیٹھی افسردگی روح کو اندر سے منجمد کر دے گی۔ یعنی جب تک انسان کے باطن میں جذبے اور تڑپ کی حرارت باقی ہے دل زندہ ہے، ورنہ گہری خاموشی مایوسی بن کر انسان کو بے حس کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.