غزل

جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی

جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
مرزا غالب· Ghazal· 3 shers

یہ غزل دل کے سوز اور جذبے کی حرارت کو زندہ رکھنے کی ناگزیریت بیان کرتی ہے کہ اس کے بغیر افسردگی اور خاموشی روح کا گھیراؤ کر لیتی ہے۔ شاعر نے اس میں محبوب کی دائمی بے رخی اور بے التفاتی پر اپنے گہرے رنج و ملال اور شکوے کا اظہار کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जो न नक़्द-ए-दाग़-ए-दिल की करे शोला पासबानी तो फ़सुर्दगी निहाँ है ब-कमीन-ए-बे-ज़बानी
جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی تو فسردگی نہاں ہے بہ کمین بے زبانی
اگر شعلہ دل کے داغ کی دولت کی حفاظت اور نگہبانی نہ کرے، تو خاموشی کی گھات میں دل کی افسردگی اور پژمردگی چھپی بیٹھی ہے۔
2
मुझे उस से क्या तवक़्क़ो ब-ज़माना-ए-जवानी कभी कूदकी में जिस ने न सुनी मिरी कहानी
مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
مجھے جوانی کے دور میں اس سے کیا امید ہو سکتی ہے، جس نے بچپن میں بھی کبھی میری کہانی نہیں سنی تھی۔
3
यूँ ही दुख किसी को देना नहीं ख़ूब वर्ना कहता कि मिरे अदू को या रब मिले मेरी ज़िंदगानी
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی
بلاوجہ کسی کو دکھ پہنچانا اچھی بات نہیں ہے، ورنہ میں خدا سے دعا کرتا کہ میرے دشمن کو بھی میری جیسی زندگی ملے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.