یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا — مرزا غالب

یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی

“To bring needless torment upon another is not right, else I would pray: O Lord, let my bitter rival be granted this very life of mine!”

— مرزا غالب

معنی

بلاوجہ کسی کو دکھ پہنچانا اچھی بات نہیں ہے، ورنہ میں خدا سے دعا کرتا کہ میرے دشمن کو بھی میری جیسی زندگی ملے۔

تشریح

شاعر اپنے درد اور کرب کی شدت کو ایک نہایت بلیغ اور تلخ طنز کے پیرائے میں پیش کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کسی کو بلاوجہ اذیت دینا اخلاق کے خلاف ہے، ورنہ میں اپنے دشمن کے حق میں بددعا کرتے ہوئے یہی کہتا کہ خدا اسے میری جیسی زندگی دے دے۔ یعنی اس کی اپنی حیات رنج و الم کا ایسا تسلسل ہے جو کسی دشمن کے لیے بھی بدترین سزا بن سکتی ہے۔ اس شعر میں دشمن سے بدلے سے زیادہ اپنے وجود پر بیتے ہوئے غم کی انتہا نمایاں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.