ہر سنگ و خشت ہے صدف گوہر شکست — مرزا غالب

ہر سنگ و خشت ہے صدف گوہر شکست نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی

“Every stone and brick is an oyster shell bearing the pearl of shattering; there is no loss for one who strikes a bargain with madness.”

— مرزا غالب

معنی

ہر اینٹ اور پتھر ٹوٹنے کے موتی کی سیپ ہے، اس لیے اگر کوئی جنون کا سودا کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

تشریح

غالب اس شعر میں عشق اور جنون کے کرب کو ایک انوکھے زاویے سے پیش کرتے ہیں۔ دنیا کی طرف سے دیوانے پر پھینکے جانے والے پتھر بظاہر تکلیف دہ ہیں، مگر شاعر کہتا ہے کہ ہر پتھر ایک سیپ ہے جس کے اندر شکست کا ایک قیمتی موتی چھپا ہوا ہے۔ جب عشق کی چوٹ اور دل کا ٹوٹنا ہی انمول خزانہ بن جائے، تو جنوں کا سودا کرنے والے کے لیے خسارے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.