لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل — مرزا غالب
“Fed by my bleeding heart, the vein of every thorn blooms like a rose bough; how long, alas, can one keep tending to the barren desert now?”
معنی
میرے خونِ جگر سے ہر کانٹے کی رگ گلاب کی شاخ بن چکی ہے؛ آخر کوئی کب تک صحرا کی باغبانی کرتا رہے؟
تشریح
اس شعر میں شاعر نے لاحاصل مشقت اور دل کی شدید تھکن کا نوحہ لکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں اور خون سے اس ویران بیابان کے کانٹوں کو ایسے پالا ہے کہ وہ پھولوں کی شاخیں معلوم ہونے لگے ہیں، مگر آخر کب تک؟ یہ اُس بےوفا تعلق یا کٹھن آزمائش کا درد ہے جہاں انسان خود کو مٹا کر بھی صحرا کو چمن نہیں بنا سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
