چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی — مرزا غالب

چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی

“When the heart's deep wound opened no path for caring inquiry, what use is tearing the collar open, inviting public infamy?”

— مرزا غالب

معنی

جب دل کے زخم سے بھی کسی کی خیر خواہی یا پرشش کا راستہ نہ کھل سکا، تو پھر اپنا گریبان چاک کر کے خود کو رسوا کرنے کا کیا فائدہ؟

تشریح

شاعر یہاں دل کے اندرونی دکھ اور محبوب کی بے رخی کا دل سوز نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب جگر کے گہرے زخم کو دیکھ کر بھی محبوب نے ہمارا حال دریافت نہ کیا، تو پھر دیوانگی میں گریبان چاک کر کے زمانے بھر میں رسوا ہونے کا کیا فائدہ؟ یہ شعر سمجھاتا ہے کہ جب درد کا کوئی قدر دان ہی نہ رہے، تو اپنی تکلیف کی نمائش کرنے کے بجائے خاموشی اور وقار کے ساتھ اسے سہہ لینا ہی بہتر ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.