افسردگی نہیں طرب انشائے التفات — مرزا غالب
“Cold melancholy sparks no joy of tender regard; yet let someone enter the heart, if only as pain.”
معنی
اداسی اور افسردگی سے التفات کی خوشی پیدا نہیں ہوتی، ہاں کوئی درد بن کر ہی سہی دل میں بس تو جائے۔
تشریح
شاعر یہاں دل کی اُس بے حس اور مردہ اداسی کا ذکر کر رہے ہیں جس میں نہ کسی کی التفات کا لطف ہے اور نہ زندگی کی رمق۔ اس سرد ویرانی کے مقابلے میں وہ محبوب کے دیے ہوئے درد کو خوش آمدید کہتے ہیں، کہ کوئی دل میں ٹھہرے تو سہی، چاہے وہ مستقل کسک بن کر ہی کیوں نہ آباد ہو۔ غزل کی روایت کا یہ خوبصورت پہلو ہے کہ خالی اداسی کے مقابلے میں عشق کا درد انسان کو زیادہ عزیز ہوتا ہے، کیونکہ یہی تڑپ دل کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
