عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر — مرزا غالب
“The world from end to end is lost in the dust of Majnun's frenzy; how long can one dwell upon the tresses of Layla?”
معنی
ساری دنیا سر تا پا مجنوں کے جنون کی دھول سے بھری ہوئی ہے، ایسے میں کوئی کب تک لیلیٰ کی زلفوں کے خیال میں پڑا رہے۔
تشریح
شاعر فرماتے ہیں کہ کائنات کا ہر کونا مجنوں کے جنون اور آوارگی سے اڑنے والی گرد و غبار میں گم ہے، یعنی چار سو بے چینی اور دکھ کا عالم ہے۔ جب حقیقت اتنی تلخ اور ویران ہو، تو بھلا کوئی کب تک محبوب کی زلفوں کی نزاکت اور رومانی خیالوں میں خود کو بہلا سکتا ہے؟ یہ شعر دراصل اس تلخ سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی کا عمیق کرب اکثر عشقیہ خوابوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
