جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی — مرزا غالب
“Unless a wound is opened like a mouth to speak, / The path of conversation with you is hard to seek.”
معنی
جب تک کوئی اپنے زخم کا منہ نہ کھول لے، تب تک کسی کے لیے آپ سے گفتگو کا راستہ کھولنا بے حد مشکل ہے۔
تشریح
شاعر نے اس شعر میں کٹے ہوئے زخم کو ’دہانِ زخم‘ یعنی زخم کا منہ قرار دے کر ایک پرتاثیر استعارہ پیش کیا ہے۔ محبوب کی بے اعتنائی ایسی ہے کہ عام باتوں سے اس کی خاموشی توڑی نہیں جا سکتی، بلکہ اس سے ربط قائم کرنے کے لیے خود کو گھاؤ لگانا اور شدید درد سہنا پڑتا ہے۔ یہ شعر محبت کے اس تلخ سچ کو ظاہر کرتا ہے کہ جب لفظ بے اثر ہو جائیں، تب صرف زخموں کی فریاد ہی بات چیت کا راستہ کھول سکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
