جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہے — مرزا غالب
“All that exists is entranced by the playful arch of the beloved's brow; setting one's eyes upon a shelf, let someone dare to gaze now.”
معنی
جو کچھ بھی موجود ہے وہ محبوب کے ابرو کی شوخی میں محو و گم ہے؛ اب کوئی اپنی آنکھوں کو طاق پر رکھ کر نظارہ کرے۔
تشریح
شاعر کا کہنا ہے کہ پوری کائنات محبوب کی ابرو کے ایک شوخ اور دلکش اشارے پر نثار ہوئی جا رہی ہے۔ یہاں 'آنکھوں کو طاق پر رکھنا' ایک خوبصورت محاورے کے طور پر آیا ہے، جس کا مطلب ساری جھجھک اور عام طریقہِ نگاہ کو بالائے طاق رکھ دینا ہے۔ شاعر دراصل یہ چیلنج دے رہے ہیں کہ اس بے پایاں حسن کو روایتی نگاہوں سے نہیں دیکھا جا سکتا، اس کے لیے تو اپنے ہوش و حواس سے بے پروا ہونا پڑے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
