وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی — مرزا غالب
“Where is that frenzy that one might author true oblivion, / Or turn existence into a word whose essence is the mythical Anqa?”
معنی
ایسی دیوانگی اور وحشت کہاں کہ کوئی بے خودی پیدا کر سکے، یا اپنی ہستی کو ایسا لفظ بنا دے جس کا معنی عنقا کی طرح بالکل ناپید اور نایاب ہو۔
تشریح
غالب اس شعر میں ایسی کامل وارفتگی اور دیوانگی کی حسرت کر رہے ہیں جو انسان کو اپنی ہستی کے بوجھ سے بالکل بے نیاز کر دے۔ انہوں نے 'عنقا' کی خوبصورت علامت استعمال کی ہے، یعنی وہ خیالی پرندہ جس کا نام تو سنائی دیتا ہے مگر وجود کہیں نہیں ہوتا۔ شاعر کا دل چاہتا ہے کہ کاش جنون میں وہ شدت ہوتی کہ انسان کی ہستی بھی مٹ کر محض ایک بے نشاں لفظ بن جاتی اور دنیا کے دکھ درد سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
