حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسدؔ — مرزا غالب
“Far off is the radiant splendor of the candle of verse, Asad; first, let one bring forth a heart that melts away.”
معنی
اے اسد، شاعری کی شمع کا حسن اور چمک تو ابھی بہت دور ہے، پہلے انسان کو اپنے اندر ایک پگھلنے والا اور پُردرد دل پیدا کرنا چاہیے۔
تشریح
غالبؔ یہاں شاعری کی اصل روح کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ سچی بات اور خوبصورت شعر محض لفظوں کی بازی گری سے وجود میں نہیں آتے۔ وہ شاعری کو ایک روشن شمع سے تشبیہ دیتے ہیں، مگر یاد دلاتے ہیں کہ شمع جلانے کے لیے موم کا پگھلنا ضروری ہے، یعنی دل کا درد اور احساس سے لبریز ہونا لازمی ہے۔ جب تک انسان کا دل جذبات کی تپش میں پگھل نہ جائے، تب تک اس کے کلام میں وہ دلکش نور اور گہرائی پیدا نہیں ہو سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
