بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل — مرزا غالب

بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی

“Idle madness occupies itself by beating its head; but once the hands are broken, what can one do?”

— مرزا غالب

معنی

جنون کی بے کاری کا مشغلہ سر پیٹنا ہے، لیکن جب ہاتھ ہی ٹوٹ جائیں تو پھر کوئی کیا کرے۔

تشریح

غالب اس شعر میں جنون اور بے بسی کی آخری حد کو بڑے دل سوز انداز میں پیش کرتے ہیں۔ عام طور پر دیوانگی کی بے کاری کا مشغلہ یہی ہوتا ہے کہ سر پیٹ کر دل کی بھڑاس نکالی جائے اور غم کا اظہار کیا جائے۔ لیکن شاعر ایک تلخ سوال اٹھاتا ہے کہ جب مسلسل ماتم سے ہاتھ ہی ٹوٹ جائیں تو پھر یہ لاچار انسان کیا کرے؟ یہ اُس انتہائے بے بسی کی تصویر ہے جہاں تڑپنے اور غم منانے کا آخری سہارا بھی چھن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.