ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز — مرزا غالب

ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی

“The inventive spirit's wild frenzy breeds deep despair; yet this is not a pain that one would fail to conjure into being.”

— مرزا غالب

معنی

نئی باتیں سوچنے والی طبیعت کی وحشت مایوسی پیدا کرتی ہے، مگر یہ ایسا درد نہیں جسے کوئی اپنے اندر پیدا نہ کرے۔

تشریح

غالب یہاں تخلیقی ذہن اور دل کے اس پرشور جنون کا ذکر کر رہے ہیں جو ہر پل کچھ نیا گھڑتا ہے، بھلے ہی اس کا انجام اداسی اور یاس پر ہو۔ لیکن اس کیفیت کا حسن یہ ہے کہ یہ درد کوئی حادثاتی رنج نہیں، بلکہ وہ انمول کسک ہے جسے ایک صاحبِ دل انسان خود اپنے اندر بیدار کرتا ہے۔ دراصل، گہرے احساس اور تخلیق کی اصل روح اسی چنے ہوئے درد سے جنم لیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.