غزل
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
یہ غزل فراق میں حاصل ہونے والے سکون اور آسائش میں بھی فریاد کرنے کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاعر اپنی بلند ہمت کے ذریعے دنیاوی نقد و اُدھار کی حقیقت کو سمجھتا ہے، جو اسے تعلقات سے آزادی کی طرف لے جاتی ہے۔ بالآخر، یہ فکری بُتوں کے وہم اور بے پر و بالی سے ملنے والے عجیب سکون جیسے فلسفیانہ خیالات کو پیش کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गर्म-ए-फ़रियाद रखा शक्ल-ए-निहाली ने मुझे
तब अमाँ हिज्र में दी बर्द-ए-लयाली ने मुझे
تکیے کی شکل نے مجھے فریاد میں مشغول رکھا۔ تب ہجر میں راتوں کی ٹھنڈک نے مجھے پناہ دی۔
2
निस्यह-ओ-नक़्द-ए-दो-आलम की हक़ीक़त मालूम
ले लिया मुझ से मिरी हिम्मत-ए-आली ने मुझे
مجھے دونوں جہاں کے نسیہ اور نقد کی حقیقت معلوم ہو گئی ہے۔ میری عالی ہمت نے مجھے خود مجھ سے چھین لیا ہے۔
3
कसरत-आराइ-ए-वहदत है परस्तारी-ए-वहम
कर दिया काफ़िर इन असनाम-ए-ख़याली ने मुझे
وحدت میں کثرت کا اظہار صرف وہم کی پرستش ہے۔ ان خیالی بتوں نے مجھے کافر بنا دیا ہے۔
4
हवस-ए-गुल के तसव्वुर में भी खटका न रहा
अजब आराम दिया बे-पर-ओ-बाली ने मुझे
اب گل کی ہوس کے تصور میں بھی کوئی کھٹکا باقی نہیں رہا۔ مجھے بے پر و بالی نے (یعنی کسی خواہش یا بندھن سے آزاد ہونے نے) عجیب سکون بخشا ہے۔
5
ज़िंदगी में भी रहा ज़ौक़-ए-फ़ना का मारा
नश्शा बख़्शा ग़ज़ब उस साग़र-ए-ख़ाली ने मुझे
زندگی میں بھی میں فنا کے شوق کا مارا رہا۔ اس خالی پیالے نے مجھے غضب کا نشہ بخشا۔
6
बस-कि थी फ़स्ल-ए-ख़िज़ान-ए-चमानिस्तान-ए-सुख़न
रंग-ए-शोहरत न दिया ताज़ा-ख़याली ने मुझे
چونکہ یہ شاعری کے چمن کا خزاں کا موسم تھا، میری تازہ خیالی نے مجھے شہرت کا رنگ نہیں دیا۔
7
जल्वा-ए-ख़ुर से फ़ना होती है शबनम 'ग़ालिब'
खो दिया सतवत-ए-अस्मा-ए-जलाली ने मुझे
غالب، سورج کے جلوے سے شبنم فنا ہو جاتی ہے۔ مجھے جلالی ناموں کی عظمت نے گم کر دیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
