Sukhan AI
غزل

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: मुझे

یہ غزل فراق میں حاصل ہونے والے سکون اور آسائش میں بھی فریاد کرنے کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاعر اپنی بلند ہمت کے ذریعے دنیاوی نقد و اُدھار کی حقیقت کو سمجھتا ہے، جو اسے تعلقات سے آزادی کی طرف لے جاتی ہے۔ بالآخر، یہ فکری بُتوں کے وہم اور بے پر و بالی سے ملنے والے عجیب سکون جیسے فلسفیانہ خیالات کو پیش کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गर्म-ए-फ़रियाद रखा शक्ल-ए-निहाली ने मुझे तब अमाँ हिज्र में दी बर्द-ए-लयाली ने मुझे
تکیے کی شکل نے مجھے فریاد میں مشغول رکھا۔ تب ہجر میں راتوں کی ٹھنڈک نے مجھے پناہ دی۔
2
निस्यह-ओ-नक़्द-ए-दो-आलम की हक़ीक़त मालूम ले लिया मुझ से मिरी हिम्मत-ए-आली ने मुझे
مجھے دونوں جہاں کے نسیہ اور نقد کی حقیقت معلوم ہو گئی ہے۔ میری عالی ہمت نے مجھے خود مجھ سے چھین لیا ہے۔
3
कसरत-आराइ-ए-वहदत है परस्तारी-ए-वहम कर दिया काफ़िर इन असनाम-ए-ख़याली ने मुझे
وحدت میں کثرت کا اظہار صرف وہم کی پرستش ہے۔ ان خیالی بتوں نے مجھے کافر بنا دیا ہے۔
4
हवस-ए-गुल के तसव्वुर में भी खटका रहा अजब आराम दिया बे-पर-ओ-बाली ने मुझे
اب گل کی ہوس کے تصور میں بھی کوئی کھٹکا باقی نہیں رہا۔ مجھے بے پر و بالی نے (یعنی کسی خواہش یا بندھن سے آزاد ہونے نے) عجیب سکون بخشا ہے۔
5
ज़िंदगी में भी रहा ज़ौक़-ए-फ़ना का मारा नश्शा बख़्शा ग़ज़ब उस साग़र-ए-ख़ाली ने मुझे
زندگی میں بھی میں فنا کے شوق کا مارا رہا۔ اس خالی پیالے نے مجھے غضب کا نشہ بخشا۔
6
बस-कि थी फ़स्ल-ए-ख़िज़ान-ए-चमानिस्तान-ए-सुख़न रंग-ए-शोहरत दिया ताज़ा-ख़याली ने मुझे
چونکہ یہ شاعری کے چمن کا خزاں کا موسم تھا، میری تازہ خیالی نے مجھے شہرت کا رنگ نہیں دیا۔
7
जल्वा-ए-ख़ुर से फ़ना होती है शबनम 'ग़ालिब' खो दिया सतवत-ए-अस्मा-ए-जलाली ने मुझे
غالب، سورج کے جلوے سے شبنم فنا ہو جاتی ہے۔ مجھے جلالی ناموں کی عظمت نے گم کر دیا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.