“Through nights of parting from the beloved, by sleeplessness consumed, / Like a candle's burning tongue, we bear the scar of our own fervent tale.”
محبوب کی جدائی کی راتوں میں بے خوابی کی زیادتی کی وجہ سے ہم شمع کی لو کی مانند ہو گئے ہیں، جو اپنے ہی افسانے کی گرمی کا داغ بن چکی ہے۔
غالب اس شعر میں محبوب کی جدائی کی طویل اور بے خواب راتوں کے جان لیوا کرب کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ خود کو شمع کی جلتی ہوئی لو یعنی اس کی زبان سے تشبیہ دیتے ہیں، جو رات بھر پگھل کر اپنی داستان سناتی ہے اور انجام کار ایک جلا ہوا داغ بن کر رہ جاتی ہے۔ عشق اور ہجر کے اس جلتے ہوئے افسانے نے عاشق کو اندر تک اس طرح جھلسایا ہے کہ اب وہ خود اپنے ہی سوز کا جیتا جاگتا نشان بن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
