“In sorrow's twilight, ignited by love for your fiery, radiant face, like the moth, we flutter our burning wings, consumed in love's embrace.”
غم کی شام میں، محبوب کے دہکتے رخسار کے عشق کی تپش سے، ہم پروانے کی طرح جلتے ہوئے اپنے پر پھڑپھڑا رہے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے شمع اور پروانے کی روایتی داستانِ عشق کو بڑی شدت سے پیش کیا ہے۔ ہجر و جدائی کی اداس شام میں محبوب کے روشن چہرے کا تصور ایک دہکتی ہوئی آگ بن گیا ہے۔ عاشق اس آگ کی تپش میں پروانے کی طرح بے قرار ہو کر اپنے پر جلا رہا ہے اور اس فنا ہو جانے میں بھی ایک عجیب والہانہ سکھ تلاش کر رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
