مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزۂ بیگانہ ہم

“Through constant practice of losing the self, within the garden of thought, we are attuned to decipher the dream of the alien grass.”

— مرزا غالب
معنی

خود فراموشی کی مسلسل مشق کی بدولت ہم خیال کے باغ میں بیگانہ سبزے کے خواب کی تعبیر سے آشنا ہو گئے ہیں۔

تشریح

غالب اس شعر میں اپنی انا کو مٹانے اور خود سے بے خبر ہو جانے کی ایک عمیق کیفیت بیان کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ خیال کی وادی میں اپنی ہستی کو فراموش کر دینے کی مشق نے ہمیں اس قدر حساس بنا دیا ہے کہ ہم اس خود رو اور بیگانہ گھاس کے خوابوں کی تعبیر بھی جان لیتے ہیں جسے دنیا نظر انداز کر دیتی ہے۔ جب انسان اپنی 'میں' سے آزاد ہوتا ہے تو وہ کائنات کے سب سے خاموش رازوں کا ہمراز بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.