“So radiant is every strand of her loosened, scattered hair, / We mistook the sun's outstretched rays for a comb passing there.”
چونکہ بکھری ہوئی زلفوں کا ہر ایک بال روشنی کی کرن کی طرح ہے، اس لیے ہم نے سورج کی کرنوں کو بالوں میں کنگھی کرنے والا ہاتھ سمجھ لیا ہے۔
غالب نے اس شعر میں محبوب کے حسن کو ایک دلکش کائناتی وسعت دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ محبوب کی بکھری ہوئی زلفوں کا ہر بال اس قدر چمکدار ہے کہ جب سورج کی کرنیں ان پر پڑتی ہیں، تو گمان ہوتا ہے جیسے خود آفتاب کنگھی تھامے اس کے بال سنوار رہا ہو۔ یہ غضب کا مبالغہ ہے جہاں کائنات کا سب سے روشن ستارہ بھی محبوب کے حسن کی خدمت گزاری میں مصروف نظر آتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
