“So utterly drunk in every winding fold of the tavern are we, that the hairline crack in the glass flask we take as the measure-line of our cup.”
ہم مے خانے کے ہر گوشے میں اس قدر بد مست ہیں کہ شراب کی صراحی میں پڑی باریک دراڑ کو بھی پیمانے کا خط یا نشان سمجھ لیتے ہیں۔
غالب اس شعر میں رندانہ بے خودی اور والہانہ سرشاری کی انتہا بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مے خانے میں اس قدر بے خود اور مدہوش ہیں کہ صراحی پر پڑی بال برابر باریک دراڑ کو بھی پیمانے کا خط سمجھ کر مزید پینے کی آرزو کرتے ہیں۔ باطنی طور پر یہ عشق کا وہ مقام ہے جہاں عقل کے تمام حساب کتاب اور پیمانے مٹ جاتے ہیں، اور انسان خود کو بے حد و حساب جذبے کے سپرد کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
