“Held in perpetual captivity are a myriad desires, Asad; we know this blood-drenched breast to be nothing less than a prison-house.”
اے اسد، اس میں لاکھوں خواہشیں ہمیشہ کے لیے قید ہیں، اس لیے ہم اپنے خون سے بھرے سینے کو ایک قید خانہ سمجھتے ہیں۔
غالبؔ اپنے لہولہان سینے کو ایک ایسا تاریک قید خانہ قرار دیتے ہیں جہاں بے شمار ارمان اور خواہشیں عمر قید کاٹ رہی ہیں۔ ہر وہ تمنا جو دنیا میں پوری نہ ہو سکی، وہ فنا ہونے کے بجائے دل کی وسعتوں میں ہمیشہ کے لیے بند ہو کر سسکتی رہتی ہے۔ یہ شعر اندرونی گھٹن اور ان بے بس حسرتوں کا دردناک مرثیہ ہے جو انسان کے باطن ہی میں قید رہ کر دم توڑ دیتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
