“Neither through weakness nor contentment have we quit this quest; upon the pillow of manly courage, a heavy burden we rest.”
ہم نے تلاش و جستجو کو نہ تو کمزوری کی وجہ سے چھوڑا ہے اور نہ قناعت کے سبب، بلکہ ہم تو مردانہ ہمت کے سہارے کے لیے ایک بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔
غالب اس شعر میں اپنی اندرونی کیفیت اور غیرت کا ایک درد بھرا احوال بیان کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ہم نے طلب و جستجو کا راستہ چھوڑ دیا ہے، تو یہ نہ تو جسمانی کمزوری کی وجہ سے ہے اور نہ ہی ہم نے حالات پر راضی ہو کر قناعت کی ہے۔ بلکہ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمت اور جوانمردی کے جس سہارے پر ہم فخر سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے، آج بے عملی کے باعث ہم خود اسی ہمت پر ایک گراں بار بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
