“Despite a whole world of tumult, no clamour comes to light; we are the festival of lamps within the bedchamber of the moth's heart.”
اپنے اندر ایک جہان بھر کا ہنگامہ رکھنے کے باوجود ہم کوئی شور ظاہر نہیں کرتے؛ ہم تو پروانے کے دل کی خلوت گاہ میں جلتے ہوئے چراغوں کی مانند ہیں۔
غالب اس شعر میں دل کے اندر جلنے والے خاموش کرب اور عشق کی لاجواب تصویر کشی کرتے ہیں۔ پروانہ باہر سے شمع پر خاموشی سے فدا ہوتا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اپنے دل کے نہاں خانے میں تپش اور چراغاں کا ایک پورا جہان آباد ہے جس کا شور دنیا تک نہیں پہنچتا۔ یہ ان گہرے جذبوں اور دکھوں کا بیان ہے جو باطن کو روشن اور خاکستر تو کر دیتے ہیں مگر لبوں پر کوئی فریاد بن کر نہیں آتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
