“Imagination, the card-player, scatters every gathering away; / We are but the shuffling pages of illusion's idol-temple on display.”
خیال کا تاش باز محفلوں کو درہم برہم کر دیتا ہے، اور ہماری حقیقت ایک بت خانے کے حیرت انگیز تماشے کے ورق پلٹنے جیسی ہے۔
غالبؔ یہاں زندگی اور کائنات کو وہم و خیال کا ایک پرفریب کھیل قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا تصور گنجفہ (تاش) کے اس اناڑی یا بے پروا کھلاڑی کی طرح ہے جو بھری محفلوں کو ایک لمحے میں درہم برہم کر دیتا ہے، اور خود ہماری حیثیت کسی بت خانے کی تصویروں یا ورق گردانی سے زیادہ نہیں۔ یعنی دنیا کا سارا ہنگامہ محض نگاہ کا دھوکا ہے، جسے خیال کی گردش پلک جھپکتے ہی بکھیر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
