کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم

“Cast the bark of the world to the storm of your neglect, for we / Are but the molten essence of a fable dissolving into tears.”

— مرزا غالب
معنی

دنیا کی کشتی کو بے رخی اور غفلت کے طوفان کے سپرد کر دو، کیونکہ ہماری ہستی کسی فرضی کہانی کے پگھلے ہوئے پانی جیسے جوہر کے سوا کچھ نہیں۔

تشریح

شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اس دنیا کی ناؤ کو اپنی بے اعتنائی اور تغافل کے طوفان کے حوالے کر دو، اس کا کوئی ملال نہیں۔ ہمارا وجود تو خود ایک پگھلتے ہوئے درد اور افسانے کے جوہر کی طرح ہے جو پانی بن کر بہہ رہا ہے۔ جب ہماری اپنی ہستی اتنی ناپائیدار اور رقیق ہے، تو پھر اس فانی دنیا کے ڈوب جانے کا خوف کیسا!

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.