“The agony of voicing desire must from our plight be understood: like a comb, across both worlds we are a clamor of parched tongues.”
اپنی خواہش ظاہر کرنے کی حسرت ہماری حالت سے سمجھنی چاہیے؛ کنگھی کے دندانوں کی طرح ہم دونوں جہانوں میں خشک زبانوں کا ہجوم بنے ہوئے ہیں۔
کنگھی کے دندانوں پر غور کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بےشمار سوکھی اور پیاسی زبانیں لب بستہ فریاد کر رہی ہوں۔ شاعر کہتے ہیں کہ دل کی تشنہ آرزوؤں کو بیان نہ کر سکنے کی اذیت اور حسرت ہماری حالت دیکھ کر سمجھی جا سکتی ہے۔ دونوں جہانوں میں ہمارا پورا وجود دراصل ان کہی تمناؤں اور بےآواز فریادوں کا ایک دردمند محشر بن کر رہ گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
