“Why complain to you of my broken state? These are but the stratagems of the azure sky.”
میری خستہ حالی اور پریشانی کا تم سے کیا شکوہ کرنا، کیونکہ یہ سب تو نیلے آسمان یعنی قسمت کی چالیں اور ہتھکنڈے ہیں۔
غالب اس شعر میں اپنے دل کی خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا ملال محبوب سے نہیں کرتے، بلکہ اسے ہر الزام سے بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ اردو شاعری میں 'چرخِ نیلی فام' بے رحم فلک اور ظالم تقدیر کی علامت بن کر آتا ہے جو ہمیشہ انسان کے تعاقب میں رہتی ہے۔ شاعر بڑی شائستگی سے یہ باور کراتے ہیں کہ ان کے دکھوں کا سبب محبوب کی بے اعتنائی نہیں بلکہ گردشِ ایام اور مقدر کے پرانے ہتھکنڈے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
