“Wearied at every stage, a few fell by the way; finding no trace of you, what could the helpless do?”
سفر کے ہر پڑاؤ پر تھک تھک کر کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ جب انہیں آپ کا کوئی پتہ یا سراغ نہ ملے تو وہ مجبور لوگ آخر کیا کریں۔
یہ شعر محبوب یا حقیقت کی تلاش کے اس کٹھن اور لاحاصل سفر کی داستان سناتا ہے جہاں منزل کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ چاہنے والوں کا ایک پورا قافلہ نکلا تھا، لیکن راستے کی طوالت اور بے پتا ہونے کی مایوسی نے مسافروں کو آہستہ آہستہ تھکا کر ہر مقام پر پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ دراصل اس بے بس انسانی دل کی پکار ہے جو انتھک جستجو کے بعد بھی لاچار ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
