غزل
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یہ غزل عاشق کی بے بسی، خاموش دکھ اور خود داری کی عکاسی کرتی ہے، جس کے لیے محبوب کے بغیر دونوں جہانوں کی نعمتیں بھی بے معنی ہیں۔ اس میں عشق کی تلاش میں درپیش تھکن، محرومی اور محبوب کو نہ پا سکنے کی مجبوری کا پُراثر بیان ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
दोनों जहान दे के वो समझे ये ख़ुश रहा
याँ आ पड़ी ये शर्म कि तकरार क्या करें
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
وہ مجھے دونوں جہان دے کر یہ سمجھے کہ میں خوش ہو گیا، جبکہ مجھے اس بات کی شرم آ گئی کہ اب ان سے کیا بحث و تکرار کروں۔
2
थक थक के हर मक़ाम पे दो चार रह गए
तेरा पता न पाएँ तो नाचार क्या करें
تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
سفر کے ہر پڑاؤ پر تھک تھک کر کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ جب انہیں آپ کا کوئی پتہ یا سراغ نہ ملے تو وہ مجبور لوگ آخر کیا کریں۔
3
क्या शम्अ' के नहीं हैं हवा-ख़्वाह बज़्म में
हो ग़म ही जाँ-गुदाज़ तो ग़म-ख़्वार क्या करें
کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
کیا محفل میں شمع کے خیر خواہ موجود نہیں ہیں؟ لیکن جب غم ہی جان لیوا ہو تو ہمدرد کیا کر سکتے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
