“Bestowing both the worlds, He deemed me well content; while here such shame constrained me: how could I dare contest?”
وہ مجھے دونوں جہان دے کر یہ سمجھے کہ میں خوش ہو گیا، جبکہ مجھے اس بات کی شرم آ گئی کہ اب ان سے کیا بحث و تکرار کروں۔
میر اس شعر میں ایک گہری اور دل کو چھو لینے والی بے بسی بیان کر رہے ہیں۔ خدا یا محبوب نے سمجھا کہ دونوں جہانوں کی نعمتیں دے کر عاشق کو خوش کر دیا ہے، جبکہ عاشق تو فقط محبوب کا وصل اور قرب چاہتا تھا۔ مگر دینے والے کے احترام اور حیا کے سبب وہ چپ ہی رہا—بھلا اتنے بڑے بخشنے والے کے سامنے کوئی کس منہ سے بحث اور تکرار کرتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
