“Are there no well-wishers of the candle in the assembly? / When grief itself is life-consuming, what can a comforter do?”
کیا محفل میں شمع کے خیر خواہ موجود نہیں ہیں؟ لیکن جب غم ہی جان لیوا ہو تو ہمدرد کیا کر سکتے ہیں۔
شاعر نے محفل میں پگھلتی شمع کی تمثیل سے انسان کے وجودی دکھ اور بے بسی کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں 'ہوا خواہ' (خیر خواہ) کا کمال کا تذکرہ ہے کہ کیا شمع سے ہمدردی رکھنے والا محفل میں کوئی نہیں؟ مگر دوسرے مصرعے میں حقیقت کھلتی ہے کہ جب غم ہی اتنا گہرا ہو جو جان اور وجود کو اندر ہی اندر پگھلا دے، تو باہر کا کوئی غم خوار چاہ کر بھی کیا مدد کر سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
