غزل

دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہیے

دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہیے
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: कहिए

یہ غزل محبت اور محبوب کے رویے کی پیچیدہ اور بظاہر متضاد نوعیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر "کیا کہیے" کی تکرار کے ذریعے اپنی بے بسی اور حیرت کا اظہار کرتا ہے، جب وہ محبوب کی انسانی فطرت، ان کے قاصد کا رقیب بن جانا، ان کی غیر متوقع موجودگی، اور ان کے فریب کا سامنا کرتا ہے۔ یہ قسمت، حسرت اور عشق کے الجھے ہوئے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
दिया है दिल अगर उस को बशर है क्या कहिए हुआ रक़ीब तो हो नामा-बर है क्या कहिए
دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
اگر میں نے اسے اپنا دل دیا ہے، تو وہ بس ایک انسان ہے، کیا کہا جا سکتا ہے؟ اگر وہ رقیب بن گیا ہے، تو وہ محض ایک نامہ بر تھا، اس بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟
2
ये ज़िद कि आज न आवे और आए बिन न रहे क़ज़ा से शिकवा हमें किस क़दर है क्या कहिए
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
یہ کیسی ضد ہے کہ آج نہیں آئے گا، مگر آئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ ہمیں تقدیر سے کس قدر شکایت ہے، اس بارے میں کیا کہیں؟
3
रहे है यूँ गह-ओ-बे-गह कि कू-ए-दोस्त को अब अगर न कहिए कि दुश्मन का घर है क्या कहिए
رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
میں محبوب کی گلی میں اس طرح رہتا ہوں کہ کبھی جگہ ملتی ہے اور کبھی نہیں، اگر اب اسے دشمن کا گھر نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔
4
ज़हे करिश्मा कि यूँ दे रक्खा है हम को फ़रेब कि बिन कहे ही उन्हें सब ख़बर है क्या कहिए
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
یہ کیسا کرشمہ ہے کہ ہمیں یوں فریب دیا گیا ہے کہ انہیں بغیر کہے ہی سب کچھ معلوم ہے۔ اب کیا کہا جائے؟
5
समझ के करते हैं बाज़ार में वो पुर्सिश-ए-हाल कि ये कहे कि सर-ए-रहगुज़र है क्या कहिए
سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
وہ بازار میں میرا حال جان بوجھ کر پوچھتے ہیں، تاکہ یہ کہا جائے کہ یہ سرِعام راستہ ہے، کیا کہیے۔
6
तुम्हें नहीं है सर-ए-रिश्ता-ए-वफ़ा का ख़याल हमारे हाथ में कुछ है मगर है क्या कहिए
تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
تمہیں وفا کے رشتے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کچھ تو ہے مگر کیا کہیں کہ وہ کیا ہے۔
7
उन्हें सवाल पे ज़ोम-ए-जुनूँ है क्यूँ लड़िए हमें जवाब से क़त-ए-नज़र है क्या कहिए
انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑیے ہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے
انہیں اپنے سوالوں پر جنون کا غرور ہے، تو کیوں لڑا جائے؟ ہمیں جوابوں سے قطع نظر ہے، تو اور کیا کہا جائے۔
8
हसद सज़ा-ए-कमाल-ए-सुख़न है क्या कीजे सितम बहा-ए-मता-ए-हुनर है क्या कहिए
حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے
حسد کمالِ سخن کی سزا ہے، کیا کیجیے؟ ستم ہنر کی قیمت ہے، کیا کہیے؟
9
कहा है किस ने कि 'ग़ालिब' बुरा नहीं लेकिन सिवाए इस के कि आशुफ़्ता-सर है क्या कहिए
کس نے کہا کہ غالب برا نہیں ہے؟ لیکن اس کے علاوہ کہ وہ پریشان حال یا دیوانہ ہے، اور کیا کہا جا سکتا ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہیے | Sukhan AI