Sukhan AI
غزل

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: गई

یہ غزل محبوب کی نگاہ کے گہرے اثر کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے، جو دل و جگر میں اتر کر اطمینان اور چھپے ہوئے جذباتی زخموں کو آشکار کرنے سے نجات دلاتی ہے۔ یہ گزشتہ شبانہ مستیوں اور سحر کے خوابوں کی عارضی نوعیت پر غور کرتی ہے، ایک بیداری کا مطالبہ کرتے ہوئے۔ بالآخر، یہ مکمل سپردگی کی حالت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں شاعر کی ہستی محبوب کے کوچے میں خاک کی طرح بکھر جاتی ہے، اور تمام ذاتی خواہشات سے دستبردار ہو جاتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल से तिरी निगाह जिगर तक उतर गई दोनों को इक अदा में रज़ा-मंद कर गई
تمہاری نظر میرے دل سے گزر کر جگر تک اتر گئی۔ تمہاری ایک ہی ادا نے میرے دل اور جگر دونوں کو راضی کر دیا۔
2
शक़ हो गया है सीना ख़ुशा लज़्ज़त-ए-फ़राग़ तकलीफ़-ए-पर्दा-दारी-ए-ज़ख़्म-ए-जिगर गई
سینہ پھٹ گیا ہے، آہ، آزادی کی کیا لذت ہے۔ دل کے زخم کو چھپانے کی تکلیف اب ختم ہو گئی ہے۔
3
वो बादा-ए-शबाना की सरमस्तियाँ कहाँ उठिए बस अब कि लज़्ज़त-ए-ख़्वाब-ए-सहर गई
رات کی شراب کے وہ نشے کہاں ہیں؟ اب اٹھ جائیے کیونکہ صبح کے خواب کا مزا چلا گیا ہے۔
4
उड़ती फिरे है ख़ाक मिरी कू-ए-यार में बारे अब हवा हवस-ए-बाल-ओ-पर गई
میری خاک اب محبوب کی گلی میں اڑتی پھر رہی ہے۔ اے ہوا، بال و پر کی خواہش اب آخرکار ختم ہو گئی ہے۔
5
देखो तो दिल-फ़रेबी-ए-अंदाज़-ए-नक़्श-ए-पा मौज-ए-ख़िराम-ए-यार भी क्या गुल कतर गई
دیکھو تو قدموں کے نشان کا دل لبھانے والا انداز۔ یار کے چلنے کی لہر نے بھی کیا خوبصورت پھول تراش دیے ہیں۔
6
हर बुल-हवस ने हुस्न-परस्ती शिआ' की अब आबरू-ए-शेवा-ए-अहल-ए-नज़र गई
ہر لالچی شخص نے حُسن پرستی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ اب اہلِ نظر کے دیکھنے کے طریقے کی عزت چلی گئی ہے۔
7
नज़्ज़ारे ने भी काम किया वाँ नक़ाब का मस्ती से हर निगह तिरे रुख़ पर बिखर गई
وہاں، نظارے نے بھی نقاب کا کام کیا۔ مستی سے ہر نگاہ تیرے رخ پر بکھر گئی۔
8
फ़र्दा दी का तफ़रक़ा यक बार मिट गया कल तुम गए कि हम पे क़यामत गुज़र गई
فردہ اور دی کا فرق یک بار مٹ گیا۔ کل جب تم گئے تو ہم پر قیامت گزر گئی۔
9
मारा ज़माने ने असदुल्लाह ख़ाँ तुम्हें वो वलवले कहाँ वो जवानी किधर गई
اے اسداللہ خاں، زمانے نے تمہیں مارا ہے۔ وہ جوش و ولولے کہاں ہیں اور وہ جوانی کہاں چلی گئی؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.