नज़्ज़ारे ने भी काम किया वाँ नक़ाब का
मस्ती से हर निगह तिरे रुख़ पर बिखर गई
“There, even the very gaze served as a veil;With ecstasy, every glance upon your face dispersed.”
— مرزا غالب
معنی
وہاں، نظارے نے بھی نقاب کا کام کیا۔ مستی سے ہر نگاہ تیرے رخ پر بکھر گئی۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
