शक़ हो गया है सीना ख़ुशा लज़्ज़त-ए-फ़राग़
तकलीफ़-ए-पर्दा-दारी-ए-ज़ख़्म-ए-जिगर गई
“My chest is rent asunder, oh, the joy of liberation, The torment of concealing my heart's wound has now gone.”
— مرزا غالب
معنی
سینہ پھٹ گیا ہے، آہ، آزادی کی کیا لذت ہے۔ دل کے زخم کو چھپانے کی تکلیف اب ختم ہو گئی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
