Sukhan AI
غزل

دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا

دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: हुआ

یہ غزل دنیا میں وفا سے ملی گہری مایوسی کو ظاہر کرتی ہے، جو کوئی تسلی نہیں دیتی۔ شاعر محبوب کی بے پناہ بے رحمی کی وجہ سے ہونے والے شدید دکھ کا اظہار کرتا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ موت بھی وفا کے غم سے نجات یا محبوب کو خوشی نہیں دے پاتی۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दहर में नक़्श-ए-वफ़ा वजह-ए-तसल्ली न हुआ है ये वो लफ़्ज़ कि शर्मिंदा-ए-मअ'नी न हुआ
اس دنیا میں وفا کا نقش کبھی تسلی کا باعث نہ بن سکا۔ یہ وہ لفظ ہے جس کا معنی کبھی شرمندہ نہ ہوا۔
2
सब्ज़ा-ए-ख़त से तिरा काकुल-ए-सरकश न दबा ये ज़मुर्रद भी हरीफ़-ए-दम-ए-अफ़ई न हुआ
تیرے سرکش زلفیں چہرے کے سبزے (نئے بالوں) سے قابو میں نہ آ سکیں۔ یہ زمرد (یعنی چہرے کا خط) بھی سانپ کی زہریلی سانس کا مقابلہ نہ کر سکا۔
3
मैं ने चाहा था कि अंदोह-ए-वफ़ा से छूटूँ वो सितमगर मिरे मरने पे भी राज़ी न हुआ
میں نے چاہا تھا کہ وفا کے غم سے آزاد ہو جاؤں۔ لیکن وہ ظالم میرے مرنے پر بھی راضی نہ ہوا۔
4
दिल गुज़रगाह-ए-ख़याल-ए-मय-ओ-साग़र ही सही गर नफ़स जादा-ए-सर-मंज़िल-ए-तक़्वी न हुआ
دل شراب اور ساغر کے خیالات کی گزرگاہ ہی ٹھیک ہے، اگر نفس تقویٰ کی آخری منزل کا راستہ نہ بن پایا۔
5
हूँ तिरे वा'दा न करने में भी राज़ी कि कभी गोश मिन्नत-कश-ए-गुलबाँग-ए-तसल्ली न हुआ
میں تمہارے وعدہ نہ کرنے پر بھی راضی ہوں، کیونکہ میرا کان کبھی تسلی کے شیریں نغمے کا منت کش یا خواہشمند نہیں ہوا۔
6
किस से महरूमी-ए-क़िस्मत की शिकायत कीजे हम ने चाहा था कि मर जाएँ सो वो भी न हुआ
اپنی قسمت کی محرومی کا شکوہ کس سے کروں؟ میں نے مرنا چاہا تھا، مگر وہ بھی نہ ہو سکا۔
7
मर गया सदमा-ए-यक-जुम्बिश-ए-लब से 'ग़ालिब' ना-तवानी से हरीफ़-ए-दम-ए-ईसी न हुआ
غالب ہونٹ کی ایک معمولی جنبش کے صدمے سے مر گیا۔ وہ اس قدر کمزور تھا کہ حضرت عیسیٰ کی زندگی بخش سانس کا مقابلہ بھی نہ کر سکا۔
8
न हुई हम से रक़म हैरत-ए-ख़त्त-ए-रुख़-ए-यार सफ़्हा-ए-आइना जौलाँ-गह-ए-तूती न हुआ
میں یار کے چہرے کے خط کی حیرت کو رقم نہ کر سکا۔ آئینے کا صفحہ طوطی کے کھیلنے کی جگہ نہ بن سکا۔
9
वुसअत-ए-रहमत-ए-हक़ देख कि बख़्शा जावे मुझ सा काफ़िर कि जो ममनून-ए-मआसी न हुआ
اللہ کی رحمت کی وسعت دیکھو کہ مجھ جیسے کافر کو بھی بخش دیا جائے، جو اپنے گناہوں پر کبھی شرمندہ نہیں ہوا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.