Sukhan AI
غزل

بس کہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر

بس کہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
مرزا غالب· Ghazal· 12 shers· radif: मौज-ए-शराब

یہ غزل شراب کے گہرے اور مدہوش کن اثر کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتی ہے، جو محض ایک مشروب نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو وجود میں سرایت کر جاتی ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ "موجِ شراب" کس طرح تخیل کو زندہ کرتی ہے، خیالات کو روشن کرتی ہے، اور ذہن کے لیے ایک شاندار نظارہ پیش کرتی ہے، اس کی تبدیلی کی طاقت کو فطرت کی ہریالی سے جوڑتی ہے – انگور کی رگوں سے لے کر تازہ سبزے تک۔ یہ اشعار ایک ایسی دنیا کا اشارہ دیتے ہیں جسے ایک بلند، نشے میں دھت نظر سے دیکھا گیا ہے، جہاں خوبصورتی اور ادراک شدت سے بڑھ جاتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बस-कि दौड़े है रग-ए-ताक में ख़ूँ हो हो कर शहपर-ए-रंग से है बाल-कुशा मौज-ए-शराब
انگور کی بیل کی رگوں میں خون مسلسل دوڑتا ہے، بار بار خون بنتا ہوا۔ شراب کی لہر، اپنے رنگ کے پروں سے، بالوں کو بکھیر دیتی ہے۔
2
मौजा-ए-गुल से चराग़ाँ है गुज़र-गाह-ए-ख़याल है तसव्वुर में ज़ि-बस जल्वा-नुमा मौज-ए-शराब
خیال کی گزرگاہ پھولوں کی لہروں سے روشن ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ تصور میں شراب کی لہر بہت زیادہ جلوہ گر ہے۔
3
नश्शे के पर्दे में है महव-ए-तमाशा-ए-दिमाग़ बस-कि रखती है सर-ए-नश-ओ-नुमा मौज-ए-शराब
نشے کے پردے میں دماغ اپنے ہی تماشے میں مگن ہے۔ کیونکہ شراب کی لہر ہمیشہ بڑھتی اور پھلتی پھولتی رہتی ہے۔
4
एक आलम पे हैं तूफ़ानी-ए-कैफ़ियत-ए-फ़स्ल मौजा-ए-सब्ज़ा-ए-नौ-ख़ेज़ से ता मौज-ए-शराब
ایک عالم پر موسم کی طوفانی کیفیت چھائی ہوئی ہے، جو نئے اگے سبزے کی لہروں سے لے کر شراب کی لہروں تک پھیلی ہوئی ہے۔
5
शरह-ए-हंगामा-ए-हस्ती है ज़हे मौसम-ए-गुल रह-बर-ए-क़तरा-बा-दरिया है ख़ोशा मौज-ए-शराब
زہے موسمِ گل (بہار کا موسم) کتنا شاندار ہے، جو ہنگامۂ ہستی کی تشریح کرتا ہے۔ خوشا موجِ شراب کتنی مبارک ہے، جو قطرے کو دریا تک رہنمائی دیتی ہے۔
6
होश उड़ते हैं मिरे जल्वा-ए-गुल देख 'असद' फिर हुआ वक़्त कि हो बाल-कुशा मौज-ए-शराब
اسد، پھول کی شان دیکھ کر میرے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ پھر سے وہ وقت آ گیا ہے کہ شراب کی موجیں پوری طرح پھیل جائیں اور اپنا اثر دکھائیں۔
7
फिर हुआ वक़्त कि हो बाल-कुशा मौज-ए-शराब दे बत-ए-मय को दिल-ओ-दस्त-ए-शना मौज-ए-शराब
پھر وہ وقت آیا ہے کہ شراب کی لہر بالوں کو سلجھائے۔ شراب کی لہر بتِ مے کو دل اور تیرنے والا ہاتھ عطا کرے۔
8
पूछ मत वज्ह-ए-सियह-मस्ती-ए-अरबाब-ए-चमन साया-ए-ताक में होती है हवा मौज-ए-शराब
باغ کے باسیوں کی گہری مستی کی وجہ مت پوچھو۔ انگور کی بیل کے سائے میں ہوا خود شراب کی لہر بن جاتی ہے۔
9
जो हुआ ग़र्क़ा-ए-मय बख़्त-ए-रसा रखता है सर से गुज़रे पे भी है बाल-ए-हुमा मौज-ए-शराब
جو شخص شراب میں ڈوب جاتا ہے، وہ ایک خوش قسمت تقدیر رکھتا ہے۔ اس کے سر سے گزرنے پر بھی، شراب کی لہر ہما پرندے کے پر جیسی مبارک ہے۔
10
है ये बरसात वो मौसम कि अजब क्या है अगर मौज-ए-हस्ती को करे फ़ैज़-ए-हवा मौज-ए-शराब
یہ بارشوں کا وہ موسم ہے، تو کیا تعجب ہے اگر ہوا کا فیض ہستی کی موج کو شراب کی موج بنا دے۔
11
चार मौज उठती है तूफ़ान-ए-तरब से हर सू मौज-ए-गुल मौज-ए-शफ़क़ मौज-ए-सबा मौज-ए-शराब
طرب کے طوفان سے ہر سُو چار موجیں اٹھتی ہیں: پھول کی موج، شفق کی موج، صبا کی موج، اور شراب کی موج۔
12
जिस क़दर रूह-ए-नबाती है जिगर तिश्ना-ए-नाज़ दे है तस्कीं ब-दम-ए-आब-ए-बक़ा मौज-ए-शराब
میرا دل آپ کے ناز کے لیے اسی قدر پیاسا ہے جس قدر نباتاتی روح ہوتی ہے۔ شراب کی ایک موج اس طرح تسکین دیتی ہے جیسے آبِ بقا کی سانس ہو۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

بس کہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر | Sukhan AI