है ये बरसात वो मौसम कि अजब क्या है अगर
मौज-ए-हस्ती को करे फ़ैज़-ए-हवा मौज-ए-शराब
“This is the season of rains; what wonder if then, The wave of life, by wind's grace, becomes a wave of wine!”
— مرزا غالب
معنی
یہ بارشوں کا وہ موسم ہے، تو کیا تعجب ہے اگر ہوا کا فیض ہستی کی موج کو شراب کی موج بنا دے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
